اُسکی ناراضی اَداۓ ناز ہے
خامشی اِک گُنگناتا ساز ہے
آنکھ وہ مجھ سے چُراۓ اِس طرح
گویا اُسکے دل میں کویٔی راز ہے
قطرہ قطرہ زہر دیتی ہے مجھے
کیا ستم گر اُسکی چشم ناز ہے
رنگ و بُویکجا ہوۓ ہیں اِس طرح
پھول کی خوشبومری ہَمراز ہے
زندگی کا ماجرا مہروزجی
درد کے نغمے پہ غم کا ساز ہے