Skip to content Skip to footer

میرا سایہ تھا دو رنگوں کا

میرا سایہ تھا دو رنگوں کا،

وہ رنگ جو میرے اپنے تھے،

لیکن اپنوں جیسی بات نہ رہی،

کچھ کالَّک آ کر لگ پڑی۔

میرا سایہ تھا دو رنگوں کا،

ہریالی تھی، پاکیزگی تھی،

سفیدگی تھی، روشنی بھی تھی،

چاند اور تارے بچھڑ گئے،

مگر اُن رنگوں کی محفل بھی تھی۔

وہ رنگ جن کا فخر تھا،

نہ جانے وہ محفل کہاں گئی،

جھنڈے کا لہرانا، مدہوش فزا میں یوں ناچنا،

یہی یادیں بس اِک خواب بن کر رہ گئیں۔

سینا تان کر اِسی دل کی آواز کہتی تھی،

چیر دو مجھے تو اِسی رنگ کی ندی بہتی تھی،

جانے کب سے سیاہ سا خون خولتا تھا،

جانے کب سے نفرتوں کا جنون دل میں دوڑتا ہے۔

نَسیں دلوں کے دروازے تک کا راستہ بھی تھیں،

جب دھڑکنیں ملیں تو لگے کہ سنگیت تھیں،

تنہایوں کا اثر اپنوں کو ہو یا پرائے کو،

چوٹ لگے تو دکھ ملتا ہر سائے کو،

پرچھائیوں کے مالک بھی غیر لگے ہمسائے کو۔

عاشقِ وطن اِسکا نام بھی ہوتا تھا،

ناجانے کب سے وہ ناجائز کہلانے لگا،

دل کو نفرتوں کی چادر پہنا کر سوتا تھا وہ،

زباں پر محبت کی مثال دیا کرتا تھا وہ،

نینوں کی پیاس خون سے بُھجے،

اور ٹپکنا برفیلے آنسوں سے، آخر کیا چاہتا تھا وہ؟

دور اندیش نگاہوں کا وہ سفر بس اُس ہی موڑ تک تھا،

جہاں انسانیت کی انتہا کا اب سفر شروع ہوا،

خانہ بدوش پرچھائیاں رنگ پھر سے ڈھونڈ لائیں،

اُس پتنگ کے طرح جس کی ڈور لال رنگ مین سما جائے۔

یہی وہ رنگ جو دنیا میں لائے ایدھی جیسی ہستیاں،

آج وہی رنگ لائے شیطان کی اولاد کی ترقیاں،

یہ رنگ لائے وہ خواب جو کر لئے تھے حاصل،

ناشکری کے ماہر، بدبخت اور ہم کئیر،

ملا دو راکھ میں، جن رنگوں نے بنایا قابل۔

میرا سایہ تھا دو رنگوں کا،

وہ رنگ جو میرے اپنے تھے،

یہ جنگ نہیں ہے غیروں سے،

جنگ میں ہی تو اپنے تھے۔

میرا سایہ تھا دو رنگوں کا۔

Leave a comment

0.0/5