Skip to content Skip to footer

پردہ ِ جسم

کیوں ہے ایسا

کیوں ہے پیسا

بولتا اِس جہاں میں

غریب کی روٹی

چھن جاتی ہے

امیروں کی لالچ تلے

دَرّندہ بنا ڈالا

غُربت کی لعنت نے

امیری دیکھی بس

کوٹھوں کی عیاشی میں

کانپ اُٹھا زمانہ

جب وحشی بنا یہ دانہ

کسان کی محنت خاک ملی

جب روتی وہ سرِبازار ملی

پوچھا جب تو کہتی وہ

رُسوا ہوئی اُن کے ہاتھوں میں

رُسوا کر دیا اُس کے دامن کو

جب پوچھا اُس سے کون تھے وہ

انسان نہیں ، وحشی دَرّندے تھے وہ

پھر مجھے یوں احساس ہوا

انسان کا پردہ فاش ہوا

پتا چلا وہ نرگِس بھی

شکار تھی حوّس کی

مجھے کچھ پچھتاوا ہوا

سرِبازار نِلامی کا

مار دیا جب اُس کو میں نے

ہار گیا وہ سارا زمانہ

جب تھوڑا میں نے غور کیا

کہ جانور تو سب میں بَستا تھا

یہ جسم تو بس ایک پردہ تھا

یہ جسم تو بس ایک پردہ تھا

Leave a comment

0.0/5