ابھی ابھی اِمتحان سے فارِغ ہوا
سوچا کہ بس اب اور اِمتحان نہیں
اب اِس زندگی سے دور جاتا ہوں
جب یہ سوچا میں نے۔۔۔
تو خود کو کاکول پاتا ہوں
کاکول کے سرسبزوشاداب پہاڑوں میں
اِک میں تھا اور میری نئی زندگی تھی
پھر وہ دن آیا جب نئی زندگی کی ڈگری ملی
اور یوں اِک نئی دنیا میں داخلے کی اجازت ملی
نئی دنیا تھی تو بہت سخت
لیکن میں نے محسوس کیا
اِس دنیا کے لوگ ہیں بہت نرم دل
اِس زندگی میں کئی ساتھی ملے
ایسے ساتھی جو زندگی کا حصّہ بن گئے
یہ زندگی تھی تو بہت سخت
لیکن پھر خیال آیا ، ایمان ۔ اتحاد۔ تنظیم
دن یوں ہی گزر تے گئے
اور میرے کندھوں پہ تارے بڑھتے گئے
پھر آیا اِک دن وہ موقع
جس کی تھی برسوں سے تلاش
سوچا اب ہاتھ سے نہ جانے دوں گا
اپنی زندگی کو قرض اُتارنے دوں گا
بس پھر کیا تھا۔۔۔
ہوئی پوری میری خواہش
ملی مجھے اِک اور نئی زندگی
یہ زندگی تھی تو نہ سخت
لیکن چاہنے والوں کی زندگی
بن گئی سخت۔۔۔
میری جدائی کے ستائے ہوئے
میری یاد میں گھبرائے ہوئے
رو رو کے اِک دن
پوچھا میری ماں نے بیٹا!
آخر کیوں کیا تم نے یہ
آخر کدھر گئے تم
لوٹ آؤ نا اب
تمہاری یاد میں ہوگئی ہوں ختم
میرا جواب بس یہی تھا،
“یہ سب تمہارے لئے ہی تو تھا۔”