میں روح کاوقت کے زِنداں کو دکھنے سے ڈرتا ہوں۔
میں کتابوں کےحاشیوں میں لکھنے سے ڈرتا ہوں۔
،اگر کل ہوا آج سے بھی بدتر
،اورکل پڑ گئی اگر بھولے سےنظر
،کسی آج لکھی تحریر پہ
،کسی آس میں کھینچی لکیر پہ
،جو ہوسکی نہ حقیقتِ حال
تو کیسے سہ پاؤں گا میں وہ سب سوال
جووقت کی چوکھٹ سے اُڑتے ہیں۔
جو “اَگر” اور “کاش” سےآجُڑتے ہیں۔