یاد اُس شوخ کی جب دل میں سما جاتی ہے
سرِمثرگاں وہ دیے خوں کے جلا جاتی ہے
حسرت ِوصل ترے ہونٹوں کی راہداری پر
روز امید کے کچھ پھول کھلا جاتی ہے
ہائے وہ غمزۂ خوش رنگ، وہ شوخی وہ ادا
دل پہ گزرے ہے تو اِک آگ لگا جاتی ہے
جام ِالفت سے ہو تسکین کیا خواہش کی
اس کی ہر جُنبشِ لب پیاس بڑھا جاتی ہے
چشمِ قاتل سے حیاء ایسے ٹپکتی ہے کہ بس
دین و ایماں تیرا مہروز چُرا جاتی ہے