Skip to content Skip to footer

او خواب گر

تو کہتا ہے

بادل کے اُس پار

نرم ہواوں کا نشیمن ہے

دل فریب راحتوں کا آشیاں ہے

جہاں دُکھوں کی بارشیں کبھی برستی نہیں

جہاں ساحلوں سے لہریں کبھی بچھڑتی نہیں

تجھ سے روایت ہے کہ وہاں۔

شمع کو پَروانوں سے شکایت نہیں

فاصلوں کو منزل سے کوئی تَکلُف نہیں

جہاں عبادتوں کا شمار شوقِ جنوں سے ہے۔

زبانِ قاتل، نشتروں سے عاری ہے۔

دیدِ نظارہ میں شب و روز گزرتے ہیں

تجھ سے سنا ہے کے دُھندکے اُس پار۔

رفاقتوں میں فریب کی آمیزش نہیں

عشق میں ریاذتوں کی ضرورت نہیں

جہاں قلب کو خِرد سے کوئی رُکاوٹ نہیں

خواب اور حقیقت کی جہاں فصلیں ملتی ہیں

او خواب گر۔

تو جانتا ہے کے

تیری حقایتوں میں حدت ِیقیں نہیں ہے

نہ ہم سے اُن خوابوں کی سوداگری کر۔

کے جن کی کوئی تعبیر نہیں ہے

زندگی کی صلیب اُٹھائے، سر جھکائے چلنے دے ہمیں

کے تیرے بنائے ہوئے سرابوں میں

وہ تاسیر ِیقین نہیں ہے

کیوں معصوم اِرادوں سے کھیلتا ہے؟

یہ دل ہے نادان بہت۔

کیوں اُنھیں خواہشوں کی گرد میں رولتا ہے

او خواب گر۔

ذرا سوچ۔

تیرا عشق بھی کیا عشق ہے

کے جسے ریاذتوں کی ضرورت ہی نہیں؟

جا کوئی اور در ڈھونڈ لے

کے یہاں کے باسیوں میں

تیرے خوابوں کا کوئی خریدار نہیں۔

Leave a comment

0.0/5