،مزاج کچھ یوں تھے اپنے
،کہ گویا اُسکو ہنسنے کے ملتے ہوں پیسے
اور مجھے ہنسنے کےآتے ہوں بِل۔
،میرے وہ سامنے کھڑی تھی
اور ہنس رہی تھی۔
،کوئی نادانی میری اُنکو
بھا گئی تھی۔
،وہ ٹھہری
مجھے کچھ آس لگاۓ دیکھی۔
،میرے ماؤف دماغ کو
،ایک جوابی چُٹکُلا بھی نہ سوجھا
اور وہ میری بے بَسّی پہ پھر ہنس دی۔
،مجھے ہمارے بیچ اُگتی
،ایک ریشمی ڈورنظر آئی
،اور اِس خیال سے ایک چُٹکُلا
،آتے آتے رہ گیا
،کہ یہ ڈور بھی تنہا راتوں کی طرح
کٹ جاۓ گی۔