Skip to content Skip to footer

سوموریری کا پانی

یہ گزرنے والی ہوا کہتی ہے مجھے۔

“جوان، بس کچھ قدم اور۔”

“اپنے قدم کمزور نہ پڑنے دینا۔”

سوموریری کے کنارے میں بیٹھا اپنے پاس پڑے پتھروں کو پانی میں پھینک رہا ہوں۔

لداخ کے چٹیل پہاڑوں کےبیچ پڑا یہ جھیل کا خاموش پانی۔۔

اور یہ نیلگوں آسماں۔۔

سورج نکلا ہونے کے باوجود، خنکی کا احساس میرے روم روم میں ہے۔

دور دور تک کوئی گھر بَستی، کوئی جھونپڑی تک نہیں۔

جلد ہی شام کے سائے گہرے ہونے لگیں گے۔

اور پھر رات، اپنی تمام حشر سامانیوں کے ساتھ، آن وارِد ہوگی۔

میری جہد کا ایک دن اور یوں اپنی تکمیل کو پہنچے گا۔

لوگ فوج میں دشمن سے لڑنے کے لئے بھرتی ہوتے ہیں۔

لیکن میں، میں خود سے لڑنے کے لئے۔۔۔

میں زندگی سے بھاگ کر آیا تھا یہاں۔

ہر آتش میں بےخطر کود پڑتا تھا میں۔

شاید اِسی لئے کے کبھی تو زندگی سے بھاگ سکوں۔

لیکن یہ کمبخت زندگی، بہت اڑیل، بہت ضدی ہے۔

اِتنی آسانی سے جان چھوڑتی نہیں۔

میرے بوٹوں پے پڑی گَرد، میری مُسافت کا پتہ دیتی ہے۔

میرے پہلو میں پڑا کافی کا مگ بھاپ دینا بند کر چکا ہے۔

میں ایک نظر اُسے دیکھ کر اپنی آنکھیں واپس پانی پے جما لیتا ہوں۔

سوموریری کے پانی میں مجھے اپنا آپ نظر آتا ہے۔

ہم دونوں کوسوں دور یہاں تن ِتنہا ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے ہیں۔

وہ بھی شاید میری طرح زندگی سے بھاگتے بھاگتے تھک چکا ہے۔

تبھی اتنا چپ سا لگتا ہے۔

“سر۔” جوان کے سلوٹ کی آواز مجھے اپنے خیالوں سے باہر لے آتی ہے۔

“سر بیریکس تیار ہوگئی ہیں۔”

“ٹھیک ہے۔ میں آتا ہوں۔” میں اُس کی جانب دیکھے بِنا کہتا ہوں۔

شام کے سائے گہرے ہو رہے ہیں۔

میں ایک آخری پتھر پانی میں پھینکتا ہوں۔

چھوٹی چھوٹی لہریں اپنے مرکز سے نکلتی ہیں۔

اور پھر واپس اپنے مرکز میں مدغم ہوجاتی ہیں۔

میں اِن لہروں کی طرح، اپنے مرکز سے بہت دور آچکا ہوں۔

میں نے سُنا تھا بہت دور چلے جانے والے پھر پَلٹ کے واپس نہیں آتے۔

کیا میری واپسی کے سارے رستے بھی ماند پڑ گئے ہیں؟

پر پلٹ کے جانا تو پڑتا ہے شاید۔

خود سے جنگ میں ہارا اور جیت کس کی ہوتی ہے؟

میں سر جھٹک کے اُٹھ کھڑا ہوتا ہوں۔

یہ گزرنے والی ہوا کہتی ہے مجھے۔

“جوان، بس کچھ قدم اور۔”

“شاید وہ اب بھی تمہارے رستوں میں ہے۔”

Leave a comment

0.0/5