Skip to content Skip to footer

غزل

ہاں! ختم اب تہہِ جام ہونے کو ہے
اب آجاؤ کہ شام ہونے کو ہے

ہے مشکل، مت آؤ، پتہ دے دو تم
کہ میرا اب انجام ہونے کو ہے

تھا تن من، دل و جاں شروع سے ترا
یہ نام اب ترے نام ہونے کو ہے

یہیں پر بھٹکتا رہوں گا پر اب
یہ صحرا بھی گمنام ہونے کو ہے

نہ پروانہ ہو تو شمع کیوں جلے؟
ہمیشہ کا آرام ہونے کو ہے

Leave a comment

0.0/5