Skip to content Skip to footer

آخری ملاقاتیں (not final, in editing phase)

میری اُس سے آخری ملاقات ایک ٹی ہاؤس میں ہوئی۔ یہ بہار کے آخری دن تھے۔صنوبر کے درختوں کے بھیچ ندیاں اپنی چال بھول رہی تھیں۔ ہر شے محو خواب تھی۔ مرغزاروں میں نئے چشمے بیدار ہو رہے تھے۔ہم خاموش تھے۔یہ کیسی خاموشی تھی؟

میں نے ٹی ہاؤس کی کھڑکی سےآسمان کی جانب دیکھا۔ چند غبارے فضا میں اُڑ رہے تھے، جویقیناً بچوں نےچھوڑے ہوں گیں۔یہ دیکھ کر مجھے ایک انگریزی گیت یاد آ گیا، جس کا ترجمہ تھا کہ میں ہیلیم غبارے کی مانند اُڑنا چاہتا ہوں۔

اچانک دوسری منزل کی کھڑکی سے کسی نے لیمپ بُجھا دیا۔ مجھے لگا کہ جیسے یہ لیمپ بھی ہمارے سراب زدہ رشتے کی مانند بُجھ گیا ہے۔میرے سامنے پڑی ہوئی چائے ٹھنڈی ہو رہی تھی۔میں نے چیسٹر فیلڈ کا ایک گھرا کش کھینچا ۔ہمارے پاس کھونےکو کچھ نہ تھا۔ اس نے پھیکے سرخ رنگ کی وہی شال اوڑھی ہوئی تھی،جب ہم لارنس میں،  دنیا و ما فیھا سے بےخبر،دنیا جہاں کی باتیں کیا کرتے تھے،  پلٹوکےWorld of Forms سے لے کرShip of Theseus تک۔ اُس کے تنفس کی مدھم آنچ سے Mount Everestکی چوٹیاں پگھلتی تھیں۔مگر آج ہمارے بھیچ یہ کیسا برفانی تودا آکھڑا ہوا تھا؟ پھر آچانک اُس نے مجھ سے رخصتی چاہی۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

اُس کے چہرے کی اُداسی بہت نمایا تھی۔اُس کے ہونٹوں کا رنگ، بالکل  اُس کی شال کے رنگ کی مانند، پھیکا پڑ گیا تھا۔

اُس وقت وہ مجھے کسی درخت کی ڈھلتی چھاؤں جیسی لگی جب میں نے اُسے پہلا اور آخری فقرہ کہا “کیپٹن تمہیں بہت خوش رکھے گا،” وہ State Bank کی لَشکتی ہوئی عما رت تھی ، جب کہ میں Teahouse کے میز پر پڑا ہوا Ashtray ۔ مجھے لگا کہ آلوچے کے باغوں میں اب کبھی بہا ر نہیں آئےگی اوراب شہتوت کی ٹہنیوں پرکبھی شہتوت  نہیں جھولیں گیں۔

Leave a comment

0.0/5