Skip to content Skip to footer

قتلِ عام: پشاور (not final)

زندگی نہیں رُکتی، کسی کے جانے کے بعد

آزادی نہیں ملتی، خون بہانے کے بعد

ہے ہمت تو قدم بڑھا کر تو دیکھو

جنّت نہیں ملتی، بچوں کو مارنے کے بعد

ذرا سوچ کر تو دیکھ اےسَنگ دل!

روتی ہے ماں اپنے لختِ جگر کو دفنانے کے بعد

کہہ دو اِن درندوں سے کہ ڈر نہیں لگتا

جب اللہ ہو انصاف کرنے والا، مرنے کے بعد

اے ماں یاد کرتا ہوں اِس چار دیواری میں

مجھے معاف کرنا، میرے جانے کے بعد

Leave a comment

0.0/5